the concept of an Islamic economic system emphasizing fair play, justice, and equal distribution of wealth. The image is divided into three پاکستان میں معاشی استحکام۔۔بنیا�

پاکستان میں معاشی استحکام ۔ بنیادی اقدامات (تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں)

معیشت کا تعارف  

لغوی مفہوم  

معیشت کا لفظ عربی زبان سے نکلا ہے. یہ کلمہ عیش (عیش کا معنی ہوتا ہے: خوشی، زندگی، روزگار).  معیشت کا استعمال زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لئے ہوتا ہے جیسے کہ آمدنی، روزگار، اقتصادی حالات ،معاشی صورت حال معاش ، رزق ، روزی روزگار ، زندگانی، گزر اوقات، گزر بسر کا ذریعہ وغیرہ.

معیشت کا اصطلاحی مفہوم  

اصطلاحی مفہوم میں معیشت سے مراد وہ تمام امور ہیں جن کے تحت انسان کے لیے زندہ رہنے کے لیے اسباب مہیا کیے جائیں. اس سے مراد ایک مجموعی حالات کا جائزہ ہے جو کسی فرد یا مجموعے کی روزگار، اقتصادی موقعوں، اور روزمرہ زندگی کے پیمانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اس میں افراد کی آمدنی، روزگار کی ترتیبات، مخصوص مصارف، سرمایہ کاری کی موقعوں کا تجزیہ، اور اقتصادی معیشت کی حالت شامل ہوتی ہیں۔ معیشت کا مطالعہ اقتصادی علم کا اہم حصہ ہے جو سماجی ترقی اور اقتصادی ترقی کی جانچ پڑتال کرتا ہے –

قرآن مجید میں لفظ معیشت کا ذکر  
قرآن میں مجید میں لفظ معیشت کا ذکر

معاشی استحکام سے کیا مراد ہے ؟  

معاشی استحکام کا مطلب ہے کہ کسی ملک کی معاشی حالت کتنی مضبوط اور پائیدار  ہے۔ اس میں معاشی ترقی، روزگار کی فراہمی، معیار زندگی، انفاق، اور معاشی امن شامل ہوتے ہیں۔ معاشی استحکام کا موازنہ عوام کی  معاشی ضروریات کو پورا کرنے اور مستقبل کی توقعات کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اس کی تعریف مختلف مواقع پر مختلف ہو سکتی ہے اور اس کا موازنہ مختلف معاشروں اور ملکوں کے بیچ کیا جا سکتا ہے۔یہ ایک ملک کی معاشی حالت کی مضبوطی کو دیکھنے کا طریقہ ہے اور اس سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ کتنی معاشی استحکام کے قریب ہیں یا کتنی دور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کمیونزم ، کیپٹلزم اور سوشلزم کے درمیان فرق

معاشی استحکام کو مختلف پیرا میٹرز کی مدد سے قابو کیا جاتا ہے تاکہ معاشی حالت کی توصیف کی جا سکے اور معاشی ترقی کی نگرانی کی جا سکے۔معاشی استحکام کی معیاری پیرامیٹرز شامل ہوتے ہیں جن میں GDP (قومی خالص معاشی پیداوار)، انفاق کی رفتار، روزگار کی معیاری، اور معاشی امن شامل ہوتے ہیں.معاشی استحکام کا مقصد عوام کی معاشی ضروریات کو پورا کرنا اور مستقبل کی توقعات کو دیکھتے ہوئے معاشی حالت کی بہتری کی جانچ پڑتال کرنا ہوتا ہے.

معاشی استحکام کی توصیف مختلف ملکوں اور مناطق کے لئے مختلف ہوتی ہے اور اس کی تشخیص مختلف اور معیاری پیرامیٹرز کی روشنی میں کی جاتی ہے.یہ اہم ہوتا ہے کیونکہ معاشی استحکام کسی ملک کی عوام کی زندگی کی بہتری اور مستقبل کی توقعات کے لئے اہم ہوتا ہے اور ماحولیاتی اثرات، اور اقتصادی ترقی کی منصوبوں کی جانچ پڑتال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے:
ترجمہ۔ اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے.

پاکستان کی معاشی صورتحال

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال انتہائی خستہ ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال تشویش ناک ہے۔پاکستان اس وقت افراتفری کا شکار ہے۔ اس میں سیاسی افراتفری بھی شامل ہے اور معاشی افراتفری بھی۔ اور افسوس کے ساتھ حالات اس نہج سے واپس جاتے ہوئے نظر نہیں آتے۔پچھلے20 سالوں سے پاکستان کی معیشت ڈرِپ پر چل رہی ہے۔ یعنی اس کو ایک ڈرِپ اکانومی کہہ سکتے ہیں۔خود سے مسلط کیے گئے حالات بھی کہہ سکتے ہیں۔ بہت سالوں سے بہت بری پالیسیاں ہم اپنا رہے ہیں، جس کے اثرات آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان میں معاشی بدحالی

پاکستان میں معاشی استحکام۔۔بنیادیں اور اقدامات(تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں)-1 (2)

گذشتہ کچھ سالوں سے پاکستان کے حکمرانوں کے درمیان جہاں سیاسی رسہ کشی جاری ہے تو وہیں مہنگائی کے ستائے عوام بمشکل اپنی زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہیں۔ اس وقت مہنگائی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق اس میں آنے والے مہینوں میں مزید اضافہ ہو گا۔پاکستان زائد از یک مقامی بحران کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک کو سیاسی افراتفری، ماحولیاتی تباہی، پھیلتی ہوئی دہشت گردی اور بڑھتے ہوئے معاشی بحران کا سامنا ہے۔آج پاکستان معاشی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔ روپیہ اپنی قدر کھوئے جارہا ہے۔ برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ معیشت سست روی کا شکار ہے اور ٹیکس آمدنی میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کے نظام کی بنیادی معلومات

ہمیں معاشی عدم استحکام، آسمان کو چھوتی مہنگائی، ناقص عوامی خدمات، سماجی شعبوں کی مجرمانہ غفلت، وسیع پیمانے پر بدعنوانی، بجلی کی بندش، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بڑھتی ہوئی غربت اور بگڑتے ہوئے قرض پروفائل کی شکل میں نظر آتے ہیں۔

 سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر اس کا حل کیا ہے ؟  کیسے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کیا جائے؟  حکومت کو کون کون سے اقدامات کرنے چاہئیں؟  تو آئیے اس کا جائزہ تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں لیتے ہیں۔

پاکستان میں معاشی استحکام کے لئے اقدامات (تعلیمات نبوی ﷺ کی        روشنی میں)

بلا شبہ آپ ﷺ کی ذات اقدس اور سیرت مطہرہ ہر مسلمان کے لیے اور زندگی کے ہر شعبہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انفرادی ، اجتماعی اور گھر یلو زندگی تک کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں آپ ﷺ کی حیات طیبہ سے رہنمائی نہ لی جاسکے ، سیرت طیبہ قیامت تک کے لوگوں کے لئے راہ ہدایت ہے۔ شریعت محمدی ﷺ میں ملکی قوانین سے لے کر انفرادی معاملات تک کے احکام موجود ہیں ۔ آپ ﷺ انہیں اپنی زندگی میں لاگو کر کے اپنی امت کو عملی نمونہ پیش فرمایا ہے۔ لہذا جہاں اللہ کی شریعت سے رہنمائی لینی ضروری ہے وہاں آپ کی حیات طیبہ کو بھی سامنے رکھنا لازم ہے تا کہ اس حکم کی تعمیلی صورت سامنے آجائے۔

اسلامی معیشت

پاکستان میں معاشی استحکام۔۔بنیادیں اور اقدامات(تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں)-1 (2)

آج کی مہنگائی زدہ عالمی معیشت میں پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کے لیے ایک موثر اقتصادی حکمت عملی کا ہونا انتہائی ضروری ہے جو اقتصادی استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیتا ہو۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے معاشی استحکام کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ معاشی حکمت عملی کی اصل بنیاد سیرت النبی ﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے مضبوط معاشی اصولوں پر ہونی چاہیے جو بحران اور غیر یقینی کے دور میں بھی کمزور معیشت کو سہارا دے کر برقرار رکھ سکے۔ سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں پاکستان میں معاشی استحکام کو فروغ دینے والی موثر معاشی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے بہت سے معاشی اصولوں پر عمل کرنا ہوگا جن کا اطلاق کرکے ملکی معیشت کو بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔

سیرت النبی ﷺ یا سیرت نبوی ﷺ عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کے لیے معاشی اصولوں سمیت زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ ایک ایسے معاشرے میں تشریف فرما تھے جہاں تجارت اور ایماندارانہ ملکی معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری تھے۔ حضور ﷺ نے اپنے پیروکاروں کو تجارتی معاملات میں منصفانہ تجارت، دیانتداری، ایمانداری اور اعتماد کی اہمیت کے بارے میں درس دیا۔ یہ تعلیمات نبوی ﷺ آج کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاشی تناظر میں بھی جدید دور کے تقاضوں سے مکمل مطابقت رکھتی ہیں اور معاشی استحکام کو فروغ دینے والی سیرت النبی ﷺ پر مبنی معاشی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے لاگو کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بزنس اور انٹرپرینیورشپ کا تعارف

آج پاکستانی معیشت گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔ ہوش رُبا منہگائی، لاتعداد ٹیکسز، غُربت اور بے روزگاری سے عاجز شہری سڑکوں پرنوحہ کُناں ہیں۔بہ نظرِ غائر جائزہ لیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ مُلکی معیشت اور عوام کی اس بدحالی کا بنیادی سبب اسلامی تعلیمات سے دُوری ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے تحاشا قدرتی وسائل سے نوازا ہے ۔ اگر ہم آج بھی قرآن و سُنّت کی روشنی میں اپنی انفرادی و قومی معیشت کی بنیاد رکھ دیں، تو مُلک سے غُربت و افلاس کا خاتمہ اور چہار سُو خوش حالی کا دور دورہ ہو جائے گا۔

معاشی استحکام کے لئے درج ذیل اقدامات بہت ضروری ہیں۔

1۔امن کا قیام  

کسی ملک کی معیشت کے استحکام کے لئے امن کا ہونا بہت ضروری ہے اگر امن قائم نہ ہو تو ملک کی معیشت کسی صورت بھی مستحکم نہیں ہو سکتی ہے۔ آپ ﷺ نے امن کے قیام کے لئے درج ذیل معاہدات کئے۔

● میثاق مدینہ  

سیرت النبی ﷺ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی سب سے پہلی ترجیح امن کا قیام ہے ۔آپ ﷺ نے یہود مدینہ کے تینوں قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر، بنو قریظہ، کے ساتھ ایک امن كا معاہدہ طے کیا جس میں انہیں دین و مذہب اور جان و مال کی مطلق آزادی دی گئی تھی ، اس معاہدے میں جلاوطنی، جائیداد کی ضبطی، یا جھگڑے کی سیاست کا کوئی رخ اختیار نہیں کیا گیا تھا، اس معاہدے کو میثاق مدینہ کا نام دیا گیا۔

مدینے کی اسلامی ریاست میں نبی ﷺ نے میثاق مدینہ کے ذریعے ہی مدینے کی ریاست کو بیرونی حملوں سے محفوظ کیا اور مدینے میں موجود متفرق قبائل جو آپس میں جھگڑتے رہتے تھے ان کے ساتھ معاہدے کر کے ان میں اتحاد پیدا کیا۔

● صلح حدیبیہ  

صلح حدیبیہ امن پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس معاہدہ کے پس منظر اور پیش آمدہ واقعات کی تفصیل حدیث و سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اہلِ علم سے یہ امر مخفی نہیں کہ اس موقع پر چودہ سو جانثار صحابہ حضور نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ تھے جنہوں نے مر مٹنے پر دستِ نبوی ﷺ پر بیعت بھی کرلی تھی اور ان میں وہ جانباز بھی موجود تھے جنہوں نے میدانِ بدر میں اہلِ مکہ کے ایک ہزار جنگجوؤں پر مشتمل مسلح لشکر کو شکست دی تھی۔ یہ مسلمان یقینا اس پوزیشن میں تھے کہ اگر حضور نبی اکرم ﷺ اشارہ فرمادیتے تو قریش کے نہ چاہنے کے باوجود وہ زبردستی مکہ میں داخل ہوجاتے اور عمرہ کرکے ہی واپس ہوتے مگر آپ ﷺ نے شہرِ حرم کی حرمت، بعض بڑے مقاصد اور امن کی خاطر اہلِ مکہ کی من مانی شرائط پر ہی جنگ کی بجائے صلح کو ترجیح دی۔

● فتح مکہ  

فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمادیا۔آپ ﷺ نے فرمایا۔ اولاً، جو شخص اپنے گھر کے اندر ہوگا اُس سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا،ثانیاً، جو شخص سامنے ہوگا اس کا تعاقب نہیں کیا جائے گااورثالثاً، جو شخص فلاں فلاں قریش کے سردار کے گھر میں پناہ لے گا اس پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔فتح مکہ بھی امن کی ایک بہت بڑی مثال ہے.

قرآن کریم میں ارشاد ہے

ترجمہ: ”اسی لئے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے یہ حکم جاری کیا کہ جو شخص کسی انسانی جان کو بغیر کسی جان کے بدلے یا زمینی فساد برپا کرنے کے علاوہ کسی اور سبب سے قتل کرے اس نے گویا ساری انسانیت کاقتل کیا اور جس نے کسی انسانی جان کی عظمت واحترام کو پہچانا اس نے گویا پوری انسانیت کو نئی زندگی بخشی۔“

انسانی جان کا ایسا عالم گیر اور وسیع تصور اسلام سے قبل کسی مذہب و تحریک نے پیش نہیں کیا تھا۔

2۔غربت کا خاتمہ  

اسلام نے معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے جہاں اس کے مختلف پہلوؤں کومدِنظررکھ کر احکامات دیے ہیں وہیں فقر وفاقہ، غربت اور بے روزگاری کے خاتمے پربھی بطور خاص توجہ دی ہےبلکہ معاشرے میں ان مسائل کے پنپنے سے پہلے مختلف اسباب و ذرائع سے ان کے حل کے طریقے بھی بتائے ہیں۔ غربت اور بے روزگاری ایسے مسائل ہیں جو نہ صرف معاشرے کی ترقی میں رکاوٹ ہے بلکہ اس سے متاثرہ فرد کے اخلاق اور عقائد پر بھی ان کا اثر پڑتا ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ لوگوں کو کام کرنے کی ترغیب دلائی

۔نبی کریمﷺ نے اس پہلو پر رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

ترجمہ: ۔”ممکن ہے کہ فقیری کفر میں مبتلا کردے ۔“

یہی وجہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کثرت سے فقر وفاقہ اور کفر سے حفاظت کے لیے ایک ہی جملے میں ان دونوں کو اکٹھے فرما کر دعا فرمایا کرتے تھے ،

ترجمہ۔ (اے اﷲ! میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔)

جس طرح موجودہ حالات میں دنیا غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے اسی طرح اس سے پہلے بھی دنیا اس مسئلے سے دوچار ہوتی رہی۔ یو این ڈی پی کی ایک رپور ٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح‘‘ ۳۹ فیصد’ہے جبکہ ہر دس میں سے چار افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اسی طرح عالمی بنک کے اعداد و شماد کے مطابق عالمی سطح پر غربت ۱۰ فیصد ہے ۔

نبی کریمﷺ نے غربت کے اس مسئلے سے نکلنے کے لیے اسلامی تعلیمات واحکامات پر مبنی عملی اقدامات کیے تھے، آپﷺ اپنے صحابہ کو مختلف کام کرنے، پیشوں کو اختیار کرنے اور گزرے انبیا کی طرح صنعتی کاموں کواپنانےکی تلقین فرمایا کرتےتھے۔ اور اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ سلم حضرت داود کو بطور نمونہ ذکر کرتے تھے .

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

کسیانسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھائے

اللہ کے نبی داود علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے کام کرکے روزی کمایاکرتے تھے۔نبی ﷺ نے مدینہ میں مواخوات کا نظام بنایا۔بے سروسامان مہاجرین کو محنت و مزدوری کرنے اور انصار کو ان کی مدد کرنے پر ابھارا اور مواخوات کا نظام بنایا۔

3۔سود سے پاک معیشت کا قیام

پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اس کی بنیاد کلمہ لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی ہے اور یہ بات پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ یہاں کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جاسکتا جو اللہ کے احکام کے خلاف ہو اور دین اسلام کے منافی ہو۔ سود کی حرمت کے احکام قرآن پاک میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں یہاں تک کہ سود کو اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے جس کا کوئی بھی مسلمان تصور تک نہیں کر سکتا۔

پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ نے سودی کاروبار اور سودی لین دین کی سختی سے ممانعت فرمائی اور عملی طور پر اسلامی ریاست سے سودی نظام کا خاتمہ کر ڈالا۔یہ معیشت دو ٹوک حکم کے ذریعے نافذ کی گئی سود کو ایک حکم ذریعے روک دیا گیا یہ کوئی تدریجی عمل نہ تھا آپ ﷺ کے پیروکاروں نے بھی اپنے اپنےدور حکومت میں سود پر مکمل پابندی عائد کی اور اسے قابل سزا جرم قرار دیا۔مضبوط معیشت سود کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔

ارشاد باری تعالٰی ہے:

ترجمہ۔اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کامیابی مل جائے۔

4۔بنیادی حقوق کا تحفظ

بنیادی حقوق کا تحفظ ملکی معیشت کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ بنیادی حقوقجیسے حق زندگی، حریت، اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ایسے حقوق کا تحفظ اقتصادی استحکام کو بڑھاتا ہے اور افراد کو امن و امان کی فراہمی میں مدد فراہم کرتا ہے، جو اقتصادی ترقی کے لئے اہم ہوتی ہے۔ہجرت مدینہ کے بعد مہاجرین بے سروسامان تھے نبی ﷺ کی پالیسی تھی کہ کوئی کوئی بےگھر نہ ہو کوئی بے سروسامان کے نہ رہے اور کوئی بغیر سورس آف انکم کہ نہ رہے نبی ﷺ نے مواخات کے ذریعے نظام بنایا انصار نے مہاجرین کو اپنے گھر میں پناہ دی اپنے سامان اور کاروبار میں شریک کیا تاریخ میں ایسی مثال قائم کی جس کی کوئی دوسری نظیر ہمیں نہیں ملتی۔

5-دولت کی منصفانہ تقسیم

عہد نبوی ﷺ کے معاشی نظام کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کا مقصد دولت کی منصفانہ تقسیم اور معاشی انصاف ہے، جس سے ایک طرفہر طرح کے معاشی ظلم اور بے جا استحصال کا سد باب ہوتا ہے تو دوسری طرف معاشرے میں اخلاقی فضائل کی نشو نما بھی ہوتی ہے۔ معاشی ظلم کا دروازہ بند کرنے کے لیے آپﷺ کی متعدد احادیث میں سود، ذخیر داند وزی، غصب و خیانت، قمار، غرر اور تجارت میں ناجائز حربوں کی ممانعت کی گئی ہے جو کہ دولت کی منصفانہ تقسیم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور معاشی عدل کو فروغ دینے کے لیے کاروبار میں بیچ ، دیانت و امانت کسب حلال، قرض حسن ، انفاق فی سبیل اللہ جیسی قدروں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کاروبار کی کامیابی اور 3 ضروری خصوصیات

سود کی سنگینی کا اندازہ درج ذیل حدیث مبارکہ سے کیا جا سکتا ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ۔حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے سود کھانے والے ، کھلانے والے،لکھنے والے اور اس کے گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ یہ گناہ میں سب برابر ہیں۔

6۔معاشی آزادی اور اس کی حدود

عہد نبوی ﷺ کے معاشی نظام میں معاشی سرگرمیوں میں آزادی کو مقدم رکھا گیا ہے اور صرف اس حد تک پابندی عائد کی گئی ہے جس حد تک انسانی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت سے اللہ تعالٰی کے سامنے جوابدہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ۔قیامت کے دن کوئی انسان بھی اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہل سکے گا جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں سے متعلق پوچ نہ لیا جائے، اس کی زندگی کے بارے میں کہ کن کاموں میں گزاری؟، جوانی کن کاموں میں گزاری؟ مال و دولت کہاں سے حاصل کیا ؟ اس مال و دولت کو کہاں خرچ کیا؟ جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا؟

7۔بے قید معیشت کی بجائے حلال و حرام کی حدود

نبی ﷺ کے عطا کردہ معاشی نظام کی بنیاد حلال و حرام کی تمیز پر ہے اس لحاظ سے یہ سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی طرح بے لگام معاشی نظام نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ۔لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آجائے گا جس میں آدمی اس بات کی پر واہ نہیں کرے گا کہ اس نے جو مال کمایا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام نے دولت کمانے والوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی بلکہ کمائی کے طریقوں میں اجتماعی مفاد کے لحاظ سے جائز وناجائز کا امتیاز قائم کیا ہے۔ جبکہ ایک مادہ پرست انسان کے نزدیک جائز و نائز کی کسوٹی صرف اپنا مفاد ہے یعنی ہر وہ ذریعہ جائز ہے جس سے مادی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے ۔ خواہ اس میں دوسرے فرد اور معاشرے کا نقصان ہی کیوں نہ ہو جبکہ اسلام اس ذہنیت کی مذمت کرتا ہے۔

8۔اسراف و بخل کی بجائے اصول اعتدال

نبی ﷺ کی معاشی تعلیمات میں اسراف اور بخل دونوں کی مذمت کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ زرپرستی، دولت دنیا کی حرص و ہوس اسلام سے دوری اور گمراہی کا ایک بڑا سبب ہے ، اسی طرح دولت کو ناجائز اور بلا ضرورت خرچ کرنا یا صرف معیار زندگی کو بلند کرنا ہی مقصد زندگی بنالینا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ رسول اکرم ﷺ کے اس ارشاد مبارک میں تو اعتدال کو نصف معیشت قرار دیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ۔ خرچ میں اعتدال نصف معیشت ہے۔

9۔اخلاقی اقدار پر مبنی معاشی نظام 

اسلام کا معاشی نظام اخلاقی اور مالی ترقی میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے نہ تو یہ رہبانیت کا قائل ہے اور نہ خالص مادہ پرستی کا بلکہ یہ سوچ اور ذہنیت پیدا کرتا ہے کہ دنیا ہی سب کچھ نہیں بلکہ اصل آخرت ہے اس لیے اس میں انسان کی معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے امانت، دیانت ، سچائی کی تاکید کی گئی ہے جبکہ جھوٹ ، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کی ممانعت کی گئی ہے۔ جیسا کہ

رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

ترجمہ۔حلال بھی بالکل واضح ہے اور حرام بھی، اور ان دونوں کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں جن کا بہت سے لوگ علم نہیں رکھتے۔ جس شخص نے اپنے آپ کو شبھات سے بچا لیا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچالیا۔

10۔ارتکاز دولت 

نبوی تعلیمات میں ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ اسلامی معاشرے میں دولت گردش میں رہے اور چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو جائے ، اس کے لیے بلاسود قرض، کسانوں کو صدقے کا حکم ، قانون وراثت و وصیت اور نظام زکوة و عشر وغیرہ کے تفصیلی احکام دیے گئے ہیں۔ قرآن کریم میں بھی ارتکاز دولت کی ممانعت کی گئی ہے

ارشاد باری تعالٰی ہے:

ترجمہ۔بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالی تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور قیموں مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتانہ رہ جائے اور تمہیں جو کچھ رسول نے دیا لے لو ، اور جس سے روکے رک جاو اور اللہ تعالٰی سے ڈرتے رہا کر دیقینا اللہ تعالی سخت عذاب والا ہے۔

11۔آزادی اظہار رائے اور فکر کی آزادی

ایسی ریاست جہاں مساوات ہوں اور سب کے حقوق برابر ہوں۔ہر انسان کو اپنی رائے اور خیالات کو آزادانہ طریقے سے اظہار کرنے کا حق ہونا چاہیے۔انسان کے جذبات اور احساسات کو اگر کوئی ٹھیس پہنچی ہے تو وہ احتجاج کاحق رکھتا ہے۔ وہ اپنی مظلومیت کا اظہار کرسکتا ہےتاکہ اُس کو انصاف حاصل ہوسکے ۔انسان بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے خیالات کا زبانی ،تحریری یاں دیگر ذرائع کے ذریعے اظہار کر سکتا ہو ۔اس کو مکمل طور پر آزادی ہو وہ کسی دوسرے کا پابند نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کاروباری فرد (اینٹرپرینیور)-کامیاب اینٹرپرینیور کی خصوصیات

خُطبہ حجتہ الوداع میں انسانی عظمت و اقدار کے منافی تمام پہلووں کو منسو خ کر دیا گیا اور وہ تمام جاہلا نہ رسمیں جو کہ قبل از اسلام انسانیت کے منافی تھیں سب کو مو قوف کردیا گیا اسی لیے یہ خطبہ مکمل طور پر انسانیت کے تحفظ کیلئے بہترین ضابطہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایک اچھی زندگی گزارنے کیلئے ایک مکمل ضابطہ حیات اور انسانی عظمت کا منشور ہے.

اس خطبۂ میں آپ نے ارشاد فرمایا:

«! لو گو! سن لو، زمانہ جاہلیت کے تمام رسم و رواج آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔ لو گو ں !تمہارا رب ایک تمہارا باپ آدم ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر ،کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی برتری نہیں ہے ، فضلیت کا معیار صرف تقوی ہے تم سب آدم کی اولاد ہو۔ تم سب پر ایک دوسرے کا خون عزتیں اور مال حرام ہے خبردار ! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ اک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو۔»

12۔منصفانہ تجارت کو فروغ دینا:

نبی اکرم حضرت محمد ﷺ نے تجارتی معاملات میں ہمیشہ منصفانہ تجارت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے کاروباری لین دین اور ناپ تول میں کسی بھی قسم کی کمی، بے ایمانی یا دھوکہ دہی کی حوصلہ شکنی کی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ۔ بیچنے والے اور خریدار کو اس وقت تک مال رکھنے یا واپس کرنے کا حق ہے جب تک کہ وہ الگ نہ ہو جائیں اور اگر دونوں فریق سچ بولیں اور عیب اور خوبیاں بیان کریں۔ تو ان کے لین دین میں برکت ہو گی اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا یا کوئی چیز چھپائی تو ان کے سودے کی برکت ضائع ہو جائے گی۔

سیرت النبی ﷺ کی یہ تعلیم کاروباری معاملات میں ایمانداری اور شفافیت کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ منصفانہ تجارت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ دونوں فریق لین دین سے مطمئن ہیں، جو معیشت میں اعتماد اور استحکام کو فروغ دیتا ہے۔ معاشی حکمت عملی تیار کرنے میں قواعد و ضوابط کے ذریعے منصفانہ تجارت کو فروغ دینا اور کاروباری لین دین کی نگرانی اور معاشی استحکام کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کاروبار میں مالیاتی انتظام (فنانس اور بجٹ)

سیرت النبی ﷺ کو سامنے رکھ کر اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک اقتصادی حکمت عملی کو قواعد و ضوابط اور کاروباری لین دین کی نگرانی کے ذریعے منصفانہ تجارت کے فروغ کو ترجیح دینی چاہیے۔ یہ منصفانہ تجارتی پالیسیوں اور ضوابط کی ترقی اور نفاذ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے جو کاروباری معاملات میں شفافیت اور ایمانداری کو فروغ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، منصفانہ تجارت کو فروغ دینے میں کاروباروں کو منصفانہ تجارتی طریقوں کی اہمیت پر تعلیم اور تربیت فراہم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

13۔قرض سے بچنا

رسول اللہ ﷺ نے قرض جمع کرنے کی بھی حوصلہ شکنی فرمائی۔ حضور ﷺ نے اپنے پیروکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ رقم ادھار لینے سے گریز کریں جب تک کہ یہ بالکل ضروری نہ ہو۔معاشی حکمت عملی تیار کرنے میں ذمہ دارانہ قرض لینے اور قرض دینے کے طریقوں کو فروغ دینے سے قرض کے بحران کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے جو معیشت کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔

14۔زکوٰۃ

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریاستِ مدینہ میں زکوٰۃ کا ایک منظم انتظام کئے رکھا تھا۔ زکوۃ اور صدقات وصول کرنے والے افسران ،کاتبین صدقات، باغات میں پھلوں کا تخمینہ لگانے والے ، مویشیوں کی چراگاہ سے محصول وصول کرنے والے ، اس قدر اہتمام سے اس فریضہ کو ادا کرنے کے لئے دربارِ نبی ﷺ سیہوا کرتاتھا۔ حضرت عمر بن خطاب کو مدینہ کے اطراف، اور اسی طرح دیگر قابل صحابہ اکرام کو مختلف علاقوں کی ذمہ داری دی۔ ان کو سختی کے ساتھ ہدایات دی جاتی تھیں کہ زکوۃ کے لئے عمدہ مال چھانٹ چھانٹ کر نہ لیں۔ زکوۃ دینے والے مقام پر جا کر وصول کریں۔ اور ان کے لئے دعائے خیر کریں۔ پھر زکوۃ دینے والے کو ہدایات دی جاتی تھیں کہ زکوۃ وصول کرنے کیلئے عاملین ان کے پاس آئیں تو خوشی سے واپس جائیں۔

آپ ﷺ زکوۃ وصول کرنے والوں کے لئے تنخواہ مقرر فرماتے تھے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایک عمدہ اقتصادی نظام چل رہا تھا۔ حضرت زبیر ریاست کے محاسب مقرر تھے۔ سن 9ھجری میں رسول ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل کو یمن روانہ کیا اور ہدایت دی کہ تمہارا واسطہ یمن میں اہل کتاب سے ہوگا۔ اہل یمن کو پہلے توحید کی دعوت دینا، اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ ان پر پانچ نمازیں فرض ہیں۔ جب وہ نماز پڑھ لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر زکوۃ فرض کی ہے۔ جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔

اسلام میں زکوٰۃ ایک لازمی خیراتی حصہ ہے جسے مسلمانوں کو سالانہ ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور اس کا مقصد اپنے مال کو پاک کرنا اور سماجی بہبود کو فروغ دینا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے معاشی استحکام کو فروغ دینے میں زکوٰۃ کی اہمیت پر زور دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ۔اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے (یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے)۔

یہ حدیث معاشی استحکام کو فروغ دینے اور بانٹنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ زکوٰۃ دولت کی دوبارہ تقسیم اور سماجی بہبود کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہے، جس سے غربت کو کم کرنے اور معاشی استحکام کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

15- تعلیم میں سرمایہ کاری

رسول اللہ ﷺ نے بھی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ حضور ﷺ نے اپنے پیروکاروں کو علم حاصل کرنے اور تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کی بھی ترغیب دی ہے۔تعلیم ایک ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کی کلید ہے جو کہمعاشی ترقی اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ایک معاشی حکمت عملی جوتعلیم میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتی ہے انسانی سرمائے کی ترقی کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہے جو کہ معاشی استحکام کو فروغ دینےکے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اعلی تعلیم یا پیشہ ورانہ تربیت : کونسا انتخاب بہترہے؟

معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے معاشیحکمت عملی کو انسانی سرمائے کی ترقی کو فروغ دینے کے ذریعہ تعلیم میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس میں تعلیم کے لیے فنڈز میں اضافہ، طلباء کو اسکالرشپ اور گرانٹس فراہم کرنا، اور ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت اور اپرنٹس شپ کو فروغ دینا شامل ہو سکتا ہے۔

16۔چھوٹے کاروباروں کے لیے سپورٹ

چھوٹے کاروبار معاشی نمو اور ترقی کے لیے ضروری ہیں، کیونکہ یہ ملازمتیں پیدا کرتے ہیں اور جدت کو فروغ دیتے ہیں۔ ایک اقتصادی حکمت عملی جو چھوٹے کاروباروں کی مدد کرتی ہے ایک لچکدار اور متنوع معیشت بنا کر معاشی استحکام کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہے۔ معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک اقتصادی حکمت عملی میں چھوٹے کاروباروں کی حمایت اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ اس میں چھوٹے کاروباروں کے لیے فنڈز اور وسائل تک رسائی، تحقیق اور ترقی کے اقدامات کے ذریعے اختراع کو فروغ دینا، اور
کاروباری افراد کو تعلیم اور تربیت فراہم کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

17۔ ذمہ دار قرض لینے اور قرض دینے کی حوصلہ افزائی کرنا

معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے معاشی حکمت عملی کو ذمہ دارانہقرض لینے اور قرض دینے کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ یہ پالیسیوں اور قواعد و ضوابط کی ترقی اور نفاذ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے جو قرض دینے کے ذمہ دارانہ طریقوں کو فروغ دیتے ہیں، جیسے کہ قرض دہندگان سے کریڈٹ کا مکمل جائزہ لینا اور قرض لینے والوں کو قرض کے انتظام کے لیے تعلیم اور وسائل فراہم کرنا۔

18۔سماجی بہبود کے پروگراموں کی معاونت

معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے معاشی حکمت عملی کو سماجی بہبود کے پروگراموں کو بھی ترجیح دینی چاہیے، جیسا کہ زکوٰۃ، جو دولت کی دوبارہ تقسیم اور سماجی بہبود کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہے۔ یہ پروگرام غربت کو کم کرنے اور ضرورت مندوں کے لیے حفاظتی جال فراہم کر کے معاشی استحکام کو فروغ دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔

سیرت انبی ﷺ کی روشنی میں معیشت کے استحکام کے لیے درج ذیل دیگر اہم اقدامات اٹھانا بھی انتہائی ضروری عمل ہے.  

١-صحیح معنوں میں ایک آزاد ریاست قائم کی جائے

٢- آپس کے (اندرونی)اختلافات کو دور کیا جائے اور محبتوں کو تقسیم کیا جائے، محبتوں کو فروغ دیا جائے 
٣- جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی جائے 
٤-معیشت کو انفاق کے اصولوں پر قائم کیا جائے نہ کہ بچت کے اوپر ،مال کو خرچ کیا جائے سمیٹا نہ جائے 

٥- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کیا جائے 
٦- قناعت اختیار کی جائے
٧- مشکلات میں گھبرانے کی بجائے نئے راستے تلاش کئے جائیں 
٨- کرپشن سے پاکستان کو پاک کیا جائے
٩- وسائل کو استعمال کرنے کے لئے بہترین پالیسیاں بنائ جایئں 
١٠- معاہدوں کی پاسداری کی جائے
١١- سچائی، دھوکہ بازی سے گریز کیا جائے اور دیانت داری ،امانت داری
سے کام لیا جائے
١٢- سادگی والی زندگی اختیار کی جائے اور ساتھ خرچ میں میانہ روی اختیار کی جائے
١٣- گناہوں سے پرہیزکیا جائے چوری، ڈاکہ، بدکاری، شراب نوشی،قتل و غارت سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے
١٤- غیر مسلم ممالک کی آشیاء کی خریدوفروخت اور استعمال سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے اور اپنے ملک کی اشیاء کی خریدوفروخت اور استعمال کیا جائے

معاشی استحکام کے لئے حکومت کے ٣ بنیادی کام

 ١. انصاف کی فراہمی

انصاف کو آسان بنایا جائے انصاف سب کے لئے ہو اس میں امیر اور غریب صاحب اقتدار اور عوام کی کوئی تفریق نہ ہو۔ مثال کے طور پر

آپ ﷺنے فرمایا

ترجمہ۔ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے گی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا

 ٢. مالیاتی نظام کی مضبوطی

زکوة، صدقات، عشر ،خراج کی وصولی کا نظام اور اس کے ذریعے بیت المال کو مستحکم کرنا۔

٣. آزاد عدلیہ کا قیام

امن و امان برقرار رکھنے اور انصاف کی فراہمی والے آزاد اداروں کا قیام

قرآنِ پاک میں اسلامی معاشی نظام کے تین سُنہری اصول

اوّل: دولت اغنیاء کے درمیان گردش نہ کرے
دوم: ضرورت سے زاید مال کو خرچ کر دیا جائے
سوم: یہ کہ خرچ کرتے وقت اسراف یا بُخل کی بہ جائے اعتدال کا مظاہرہ کیا جائے

خلاصہ

عصرِحاضر میں ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ دولت اغنیاء کے مابین گردش کر رہی ہے، اس کی غیر منصفانہ تقسیم جاری ہے اور ہم بُخل اور اسراف سے بھی کام لے رہے ہیں۔ تجارت کو معیشت میں ہمیشہ بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے اور اسے پیغمبروں کا پیشہ قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ آپﷺ سمیت دیگر انبیاء بھی اس پیشے سے وابستہ رہے۔ اسلام میں تجارت کی اہمیت کا اندازہ اس ارشاد سے لگایا جا سکتا ہے.

نبی کریم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ترجمہ۔’’جو تاجر تجارت میں سچّائی اور امانت اختیار کرے، وہ قیامت کے دن انبیاء، صدّیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا۔‘‘

اسلامی شریعت کی رُو سے خواتین بھی مُلک کی خوش حالی و بقا میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ نبی اکرمﷺ کے دَور میں خواتین چار اقسام کی معاشی سرگرمیوں سے وابستہ تھیں، جن میں زراعت، تجارت، طبّ اور دست کاری شامل تھی۔ نیز، بہت سی صحابیاتؓ بھی زراعت اور دست کاری سے منسلک رہیں اور اس ضمن میں حضرت اسما بنت ابو بکرؓکی مثال ہمارے سامنے ہے۔ طبّ میں حضرت اُمّ رفیدہؓ کا نام سرِفہرست ہے، جب کہ تجارت کے شعبے میں سیّدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ کو کسی طور فراموش نہیں کیا
جاسکتا، جن کی تجارت کا دائرہ عرب سے لے کر شام تک پھیلا ہوا تھا۔

ہمارے یہاں سُود پر مبنی کاروبار، ناجائز منافع خوری اور اسمگلنگ معاشی عدم استحکام کے بڑے اسباب ہیں۔ یاد رہے کہ اسلام نے سُود کی بجائے قرضِ حسنہ کی تعلیم دی ہے۔

آپﷺ کا ارشاد ہے

ترجمہ۔کہ ’’معراج کی رات مَیں نے جنّت کے دروازے پر صدقے کا ثواب دس گُنا اور قرض کا ثواب اٹھارہ گُنا لکھا دیکھا، تو حضرت جبرائیلؑ سے پوچھا کہ اے جبرائیلؑ! کیا وجہ ہے کہ قرض کا ثواب صدقے سے زیادہ ہے؟ تو جبرائیلؑ نے جواب دیا کہ مانگنے والا اپنے پاس کچھ ہونے کے باوجود سوال کرتا ہے، جب کہ قرض خواہ ضرورت کے تحت ہی قرض طلب کرتا ہے۔‘‘

علاوہ ازیں، ناپ تول میں کمی اور حق دار کو اُس کے حق سے کم دینا بھی ہلاکت اور خسارے کا باعث ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے:

ترجمہ۔” تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے، جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب انہیں ناپ یا تول کر دیتے ہیں، تو کم دیتے ہیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اُٹھا کر لائے جانے والے ہیں۔ اُس دن سب لوگ ربّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔‘‘

اسلامی معیشت میں ملکیتِ اموال سے مراد صرف امانت و نیابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کسبِ حلال میں امین بنایا ہے، جب کہ زمین اور اس کی پیداوار میں تمام انسانوں کا حق مساوی ہے۔ نیز، جملہ اموال میں حاجت مندوں کا شرعی حق ہے۔ یاد رہے، حقِ معاش کی فراہمی ریاست کی ذمّے داری ہے ، لیکن ہر شہری کے لیے حتی المقدور کسبِ معاش لازم ہے۔ اسلامی معیشت کے مذکورہ بالا اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہو کر مُلکی معیشت کواستحکام و دوام بخشا جا سکتا ہے۔ دور حاضر میں مسلم امہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سودی نظام معیشت، غربت، بے روزگاری، افراط زر، غیر ملکی قرضے، اور بین الا قوامی تجارت کا عدم توازن ہے۔

مسلم ممالک ان چیلنجز سے اسی صورت میں نبرد آزما ہو سکتے ہیں جو یہ اپنی معاشی پالیسیوں میں قرآن وسنت اور سیرت طیبہ سے راہنمائی حاصل کریں۔ ابتد ا ا پنی معیشت کو مظبوط کرنے کے لیے باہمی تعاون اور تجارت کو بڑھانا چاہیے ، تاکہ ان ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور غربت و بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔ مسلم حکومتوں کو چاہیے کہ صنعت کاروں کو بلاسود قرضے یاد یگر سرمایہ کاری کے ذرائع سے سرمایہ فراہم کریں تاکہ مذید کار خانے بنائے جاسکیں اور ملکی برآمدات میں اضافہ ہو۔ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی مالیاتی پالیسی کو شرح سود سے کنٹرول کرنے کی بجائے نظام زکوۃ کا نفاظ کریں جو کہ اسلامی نظام معیشت کا ایک امتیازی پہلو ہے۔

References

¹۔ القرآن الكريم، سورة ٢٨ ❞ الْقَصَصُ ❝ ، آية ٥٨
²۔ القرآن الكريم، سورة ٢٠ ❞ طٰہٰ ❝ ، آية ١٢٤

³۔ القرآن الكريم، سورة ٤٣ ❞ الزُّخْرُفُ ❝ ، آية ٣٢
⁴۔ القرآن الكريم، سورة ٧٨ ❞ النَّبَاءَ ❝ ، آية ١١
⁵۔ القرآن الكريم، سورة ٧ ❞ الْأَعْرَافُ ❝ ، آية ١٠
⁶۔ القرآن الكريم، سورة ٥ ❞ الْمَائِدُہ ❝ ، آية ٣٢
⁷۔ مشكوة المصابيح، كتاب الآداب، بَابُ❞ مَا يُنْهَى عَنْهُ مِنَ التَّهَاجُرِ وَالتَّقَاطِع وَاتَّبَاعِ الْعَوَارَتِ ❝، ح٥٠٥١
⁸۔ سنن نسائي، كتاب السهو، بَابُ❞ التَّعَوُّذِ فِي دُبُرِ الصَّلاَةِ ❝، ح١٣٤٨
⁹۔ القرآن الكريم، سورة ٣ ❞ آلِ عِمْرَانَ ❝ ، آية ١٣٠
¹⁰۔ صحيح مسلم، كِتَاب الْمُسَاقَاةِ، بَابُ❞ لَعْنِ آكِلِ الرِّبَا وَمُؤْكِلِهِ
❝، ح٤٠٩٣
¹¹۔ سنن ترمذي، كِتَاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله ﷺ، بَابُ❞ فِي الْقِيَامَةِ ❝، ح٢٤١٧
¹²۔ صحيح البخاري، كِتَاب الْبُيُوعِ، بَابُ❞ مَنْ لَمْ يُبَالِ مِنْ حَيْثُ كَسَبَ الْمَالَ ❝، ح٢٠٥٩
¹³۔ مشكوة المصابيح، كتاب الآداب، بَابُ❞ الْخَدْرِ وَالثَّانِي فِي الْأَمور ❝، ح٥٠٦٧
¹⁴۔ صحيح البخاري، كتاب الْإِيمَانِ، بَابُ❞ فَضْلِ مَنِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ ❝، ح٥٢
¹⁵۔ القرآن الكريم، سورة ٥٩ ❞ الْحَشْرُ ❝ ، آية ٧

¹⁶۔ سنن نسائي، كتاب البيوع، بَابُ❞ ا يَجِبُ عَلَى التُّجَّارِ مِنَ التَّوْقِيَةِ فِي مُبَايَعَتِهِمْ ❝، ح٤٤٦٢
¹⁷۔ سنن ابي داود، كتاب الزَّكَاةِ، بَابُ❞فِي الاِسْتِعْفَافِ ❝، ح١٦٤٨
¹⁸۔ صحيح البخاري، كتاب ❞أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ❝، ح٣٤٧٥
¹⁹۔ سنن دارمي، كتاب البيوع، بَابُ❞في التَّاجِرِ الصَّدُوقِ ❝، ح٢٥٧٥
²⁰۔ سنن ابن ماجه، كتاب الصدقات، بَابُ❞الْقَرْضِ ❝، ح٢٤٣١
²¹۔ القرآن الكريم، سورة ٨٣ ❞ الْمُطَفِّفِینَ ❝ ، آية ١-٦

اپنا تبصرہ بھیجیں